عزیز و اقارب

قسم کلام: اسم جمع

معنی

١ - عزیز اقارب، رشتے دار، خویش و یگانہ۔ "اس کے گھر میں اس کے عزیز و اقارب اور دوست جمع ہوئے۔"      ( ١٩٨١ء، قطب نما، ٨٥ )

اشتقاق

عربی زبان سے مشتق اسم 'عزیز' کے بعد 'و' بطور حرف عطف لگانے کے بعد عربی ہی سے مشتق صیغہ اسم تفضیل 'اقارب' ملانے سے مرکب 'عزیز و اقارب' بنا۔ اردو میں بطور اسم مستعمل ہے اور سب سے پہلے ١٩٨١ء کو "قطب نما" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - عزیز اقارب، رشتے دار، خویش و یگانہ۔ "اس کے گھر میں اس کے عزیز و اقارب اور دوست جمع ہوئے۔"      ( ١٩٨١ء، قطب نما، ٨٥ )

جنس: مذکر